نشوونما، غذا اور بڑھوتری
مسودہ۔ اس صفحے کا ابھی ڈاکٹر صاحب نے جائزہ نہیں لیا۔
ہر بچہ اپنی رفتار سے بڑھتا اور سیکھتا ہے۔ نشوونما کی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ بچہ صحت مند انداز میں بڑھ رہا ہے یا نہیں، اور آپ کو غذا اور نشوونما کے مراحل کے بارے میں پوچھنے کا موقع ملتا ہے۔
نشوونما کی جانچ کیسے ہوتی ہے؟
ڈاکٹر صاحب بچے کا وزن، قد یا لمبائی اور سر کی پیمائش کرتے ہیں اور انہیں گروتھ چارٹ پر درج کرتے ہیں۔ کسی ایک پیمائش سے زیادہ اہم یہ ہے کہ کئی معائنوں میں بچے کی بڑھوتری کا رجحان کیسا ہے۔
اگر بچے کا وزن نہ بڑھ رہا ہو یا وہ کھانے میں نخرے کرے تو؟
بہت سے صحت مند بچے کچھ عرصہ کم کھاتے ہیں یا بعض چیزیں کھانے سے انکار کرتے ہیں۔ اگر وقت کے ساتھ بچے کا وزن نہ بڑھ رہا ہو تو ڈاکٹر صاحب اس کی غذا کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ کوئی اندرونی وجہ تو نہیں۔
- کھانا اور ہلکی پھلکی غذا مقررہ اوقات پر دیں، اور جہاں ممکن ہو سب گھر والے ساتھ بیٹھ کر کھائیں۔
- نئی غذا زبردستی کیے بغیر کئی بار پیش کریں۔
- کھانے سے پہلے جوس، چائے یا میٹھے مشروبات سے بچے کا پیٹ نہ بھریں۔
- چند دن لکھتے رہیں کہ بچہ کیا کھاتا ہے، اور یہ فہرست معائنے کے وقت ساتھ لائیں۔
ٹھوس غذا کب اور کیسے شروع کریں؟
عالمی ادارہ صحت کی سفارش ہے کہ ٹھوس غذا تقریباً چھ ماہ کی عمر میں شروع کی جائے اور ماں کا دودھ جاری رکھا جائے۔ نرم، مسلی ہوئی غذا سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ نئی چیزیں شامل کریں۔
- ایک وقت میں ایک نئی غذا شروع کریں۔
- جیسے جیسے بچہ کھانا سیکھے، مقدار بڑھائیں اور غذا گاڑھی کرتے جائیں۔
- چھوٹے بچے کی غذا میں نمک یا چینی نہ ڈالیں۔
نشوونما کے مراحل: ڈاکٹر سے کب پوچھنا چاہیے؟
بچے بیٹھنا، چلنا اور بولنا مختلف عمروں میں سیکھتے ہیں۔ ڈاکٹر سے پوچھیں اگر بچہ کوئی ایسا کام چھوڑ دے جو وہ پہلے کر لیتا تھا، آوازوں پر یا آپ کی طرف توجہ نہ دے، یا اپنی عمر کے دوسرے بچوں سے واضح طور پر پیچھے لگے۔
اپنے بچے کو آپ سب سے بہتر جانتے ہیں۔ اگر بچے کی حرکت، بول چال، سننے، دیکھنے یا رویے کے بارے میں کوئی بات آپ کو پریشان کرے تو پوچھ لینا مناسب ہے۔
نشوونما کی جانچ کے لیے کیا ساتھ لانا چاہیے؟
بچے کا حفاظتی ٹیکوں کا کارڈ اور پہلے کا جو بھی ریکارڈ ہو، ٹیسٹ رپورٹیں اور نسخے ساتھ لائیں۔ پچھلے چند دنوں میں بچے نے جو کچھ کھایا اس کی مختصر فہرست بھی مددگار ہوتی ہے۔